- Islamabad
- 29.9°C
- Today ( Saturday, 2 May 2026)
بے رخی تلخ لگ رہی ہے مجھے / بلال آدر
بے رخی تلخ لگ رہی ہے مجھے
زہر سی تلخ لگ رہی ہے مجھے
کون جانے کہ زندہ ہو کر بھی
زندگی تلخ لگ رہی ہے مجھے
کیا کہوں مفلسی کے بارے میں
بس بھئی تلخ لگ رہی ہے مجھے
بس مرا سب پہ چل رہا تھا کیا؟
بے بسی تلخ لگ رہی ہے مجھے
آشناؤں سے آشنا کیوں ہوں
آگہی تلخ لگ رہی ہے مجھے
اس قدر غم زدہ رہا ہوں میں
اب ہنسی تلخ لگ رہی ہے مجھے
یہ عجب ہے بہت عجب آدر
ہر خوشی تلخ لگ رہی ہے مجھے
-
جواہرات بہت خوش نما سنگھار میں ہیں
خلل پذیر ہیں گو دل پذیر پیار میں ہیں
مجھے مراد کا حاصل ہے سہل کر لینا
مفاد اس سے مگر تیرے اختیار میں ہیں
بقیہ اچھے ہوں جیسے گزرنے والے تھے
رفاقتوں کے جو لمحات انتظار میں ہیں
جنون ...
-
اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ ہرقومی زبان اپنی علاقائی بولیوں کے الفاظ کا مجموعہ ہوتی ہے۔چونکہ زبان بھی کسی جاندار کی طرح ارتقا کے عمل سے گزرتی ہے لہذا وہ اپنے ارد گرد کے ماحول سے اثرات قبول کرتے ہوئے وقت گزرنے کے ساتھ بدلتے ماحول میں ڈھلنے کی بھر پور کوشش کرتی ہے۔ان صفات کی...
Stay Connected
Get Newsletter
Subscribe to our newsletter to get latest news, popular news and exclusive updates.
Featured News
-
Hot News
Trending News
Most Popular
Editors Choice






















Facebook Comments